صحيح مسلمThe Book of the Merits of the Companions#6290صحيح
العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ وَأَنَا سَاكِتَةٌ - قَالَتْ - فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ " . فَقَالَتْ بَلَى . قَالَ " فَأَحِبِّي هَذِهِ " . قَالَتْ فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَجَعَتْ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي قَالَتْ وَبِالَّذِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَ لَهَا مَا نُرَاكِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَىْءٍ فَارْجِعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُولِي لَهُ إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ وَاللَّهِ لاَ أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا . قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْهُنَّ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ وَأَتْقَى لِلَّهِ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَعْظَمَ صَدَقَةً وَأَشَدَّ ابْتِذَالاً لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ وَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حَدٍّ كَانَتْ فِيهَا تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ قَالَتْ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا عَلَى الْحَالَةِ الَّتِي دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا وَهُوَ بِهَا فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ . قَالَتْ ثُمَّ وَقَعَتْ بِي فَاسْتَطَالَتْ عَلَىَّ وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ هَلْ يَأْذَنُ لِي فِيهَا - قَالَتْ - فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ - قَالَتْ - فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا حِينَ أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَبَسَّمَ " إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat A'isha, the wife of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), said:The wives of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) sent Hadrat Fatima, the daughter of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). She sought permission to get in as he had been lying with me in my mantle. He gave her permission and she said: the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), verily, your wives have sent me to you in order to ask you to observe equity in case of the daughter of Abu Quhafa. She (`Hadrat A'isha) said: I kept quiet. Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated to her (Hadrat Fatima): O daughter, don't you love whom I love? She said: Yes, (I do). Thereupon he said: I love this one. Hadrat Fatima then stood up as she heard this from Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and went to the wives of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and informed them of what she had said to him and what Allah's messenger (blessings and peace of Allah be upon him) had said to her. Thereupon they said to her: We think that you have been of no avail to us. You may again go to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and tell him that his wives seek equity in case of the daughter of Abu Quhafa. Hadrat Fatima said: By Allah, I will never talk to him about this matter. `Hadrat A'isha (further) reported that the wives of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) then sent Hadrat Zainab b. Jahsh, the wife of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), and she was one who was somewhat equal in rank with me in the eyes of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and I have never seen a woman more advanced in religious piety than Hadrat Zainab, more God-conscious, more truthful, more alive to the ties of blood, more generous and having more sense of self-sacrifice in practical life and having more charitable disposition and thus more close to God, the Exalted, than her. She, however, lost temper very soon but was soon calm. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) permitted her to enter as she (`Hadrat A'isha) was along with Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) in her mantle, in the same very state when Hadrat Fatima had entered. She said: the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), your wives have sent me to you seeking equity in case of the daughter of Abu Quhafa. She then came to me and showed harshness to me and I was seeing the eyes of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) whether he would permit me. Hadrat Zainab went on until I came to know that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) would not disapprove if I retorted. Then I exchanged hot words until I made her quiet. Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) smiled and said: She is the daughter of Hadrat Abu Bakr
الترجمة الأردية
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے محمد بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اہلیہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا ۔ انہوں نے اجازت مانگی ، اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ میری چادر میں لیٹے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا ہے ، وہ چاہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ ابوقحافہ کی بیٹی میں انصاف کریں ( یعنی جتنی محبت ان سے رکھتے ہیں اتنی ہی اوروں سے رکھیں ۔ اور یہ امر اختیاری نہ تھا اور سب باتوں میں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم انصاف کرتے تھے ) اور میں خاموش تھی ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے بیٹی! کیا تو وہ نہیں چاہتی جو میں چاہوں؟ وہ بولیں کہ یا رسول اللہ! میں تو وہی چاہتی ہوں جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم چاہیں ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تو حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ سے محبت رکھ ۔ یہ سنتے ہی فاطمہ اٹھیں اور ازواج مطہرات کے پاس گئیں اور ان سے جا کر اپنا کہنا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا بیان کیا ۔ وہ کہنے لگیں کہ ہم سمجھتیں ہیں کہ تم ہمارے کچھ کام نہ آئیں ، اس لئے پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور کہو کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں ( ابوقحافہ سیدنا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد تھے تو حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دادا ہوئے اور دادا کی طرف نسبت دے سکتے ہیں ) ۔ سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں تو اب حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مقدمہ میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو نہ کروں گی ۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ آخر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج نے اُمّ المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا اور میرے برابر کے مرتبہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وہی تھیں اور میں نے کوئی عورت ان سے زیادہ دیندار ، اللہ سے ڈرنے والی ، سچی بات کہنے والی ، ناطہٰ جوڑنے والی اور خیرات کرنے والی نہیں دیکھی اور نہ ان سے بڑھ کر کوئی عورت اللہ تعالیٰ کے کام میں اور صدقہ میں اپنے نفس پر زور ڈالتی تھی ، فقط ان میں ایک تیزی تھی ( یعنی غصہ تھا ) اس سے بھی وہ جلدی پھر جاتیں اور مل جاتیں اور نادم ہو جاتی تھیں ۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسی حال میں اجازت دی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میری چادر میں تھے ، جس حال میں سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں ۔ پھر یہ کہہ کر مجھ پر آئیں اور زبان درازی کی اور میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ کو دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں ، یہاں تک کہ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جواب دینے سے برا نہیں مانیں گے ، تب تو میں بھی ان پر آئی اور تھوڑی ہی دیر میں ان کو لاجواب کر دیا یا ان پر غالب آ گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا کہ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ہے ۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ وَأَنَا سَاكِتَةٌ - قَالَتْ - فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ " . فَقَالَتْ بَلَى . قَالَ " فَأَحِبِّي هَذِهِ " . قَالَتْ فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَجَعَتْ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي قَالَتْ وَبِالَّذِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَ لَهَا مَا نُرَاكِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَىْءٍ فَارْجِعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُولِي لَهُ إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ وَاللَّهِ لاَ أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا . قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْهُنَّ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ وَأَتْقَى لِلَّهِ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَعْظَمَ صَدَقَةً وَأَشَدَّ ابْتِذَالاً لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ وَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حَدٍّ كَانَتْ فِيهَا تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ قَالَتْ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا عَلَى الْحَالَةِ الَّتِي دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا وَهُوَ بِهَا فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ . قَالَتْ ثُمَّ وَقَعَتْ بِي فَاسْتَطَالَتْ عَلَىَّ وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ هَلْ يَأْذَنُ لِي فِيهَا - قَالَتْ - فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ - قَالَتْ - فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا حِينَ أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَبَسَّمَ " إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ " .
Hadrat A'isha, the wife of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), said:The wives of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) sent Hadrat Fatima, the daughter of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). She sought permission to get in as he had been lying with me in my mantle. He gave her permission and she said: the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), verily, your wives have sent me to you in order to ask you to observe equity in case of the daughter of Abu Quhafa. She (`Hadrat A'isha) said: I kept quiet. Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated to her (Hadrat Fatima): O daughter, don't you love whom I love? She said: Yes, (I do). Thereupon he said: I love this one. Hadrat Fatima then stood up as she heard this from Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and went to the wives of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and informed them of what she had said to him and what Allah's messenger (blessings and peace of Allah be upon him) had said to her. Thereupon they said to her: We think that you have been of no avail to us. You may again go to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and tell him that his wives seek equity in case of the daughter of Abu Quhafa. Hadrat Fatima said: By Allah, I will never talk to him about this matter. `Hadrat A'isha (further) reported that the wives of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) then sent Hadrat Zainab b. Jahsh, the wife of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), and she was one who was somewhat equal in rank with me in the eyes of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and I have never seen a woman more advanced in religious piety than Hadrat Zainab, more God-conscious, more truthful, more alive to the ties of blood, more generous and having more sense of self-sacrifice in practical life and having more charitable disposition and thus more close to God, the Exalted, than her. She, however, lost temper very soon but was soon calm. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) permitted her to enter as she (`Hadrat A'isha) was along with Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) in her mantle, in the same very state when Hadrat Fatima had entered. She said: the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), your wives have sent me to you seeking equity in case of the daughter of Abu Quhafa. She then came to me and showed harshness to me and I was seeing the eyes of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) whether he would permit me. Hadrat Zainab went on until I came to know that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) would not disapprove if I retorted. Then I exchanged hot words until I made her quiet. Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) smiled and said: She is the daughter of Hadrat Abu Bakr
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے محمد بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اہلیہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا ۔ انہوں نے اجازت مانگی ، اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ میری چادر میں لیٹے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا ہے ، وہ چاہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ ابوقحافہ کی بیٹی میں انصاف کریں ( یعنی جتنی محبت ان سے رکھتے ہیں اتنی ہی اوروں سے رکھیں ۔ اور یہ امر اختیاری نہ تھا اور سب باتوں میں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم انصاف کرتے تھے ) اور میں خاموش تھی ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے بیٹی! کیا تو وہ نہیں چاہتی جو میں چاہوں؟ وہ بولیں کہ یا رسول اللہ! میں تو وہی چاہتی ہوں جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم چاہیں ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تو حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ سے محبت رکھ ۔ یہ سنتے ہی فاطمہ اٹھیں اور ازواج مطہرات کے پاس گئیں اور ان سے جا کر اپنا کہنا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا بیان کیا ۔ وہ کہنے لگیں کہ ہم سمجھتیں ہیں کہ تم ہمارے کچھ کام نہ آئیں ، اس لئے پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور کہو کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں ( ابوقحافہ سیدنا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد تھے تو حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دادا ہوئے اور دادا کی طرف نسبت دے سکتے ہیں ) ۔ سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں تو اب حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مقدمہ میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو نہ کروں گی ۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ آخر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج نے اُمّ المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا اور میرے برابر کے مرتبہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وہی تھیں اور میں نے کوئی عورت ان سے زیادہ دیندار ، اللہ سے ڈرنے والی ، سچی بات کہنے والی ، ناطہٰ جوڑنے والی اور خیرات کرنے والی نہیں دیکھی اور نہ ان سے بڑھ کر کوئی عورت اللہ تعالیٰ کے کام میں اور صدقہ میں اپنے نفس پر زور ڈالتی تھی ، فقط ان میں ایک تیزی تھی ( یعنی غصہ تھا ) اس سے بھی وہ جلدی پھر جاتیں اور مل جاتیں اور نادم ہو جاتی تھیں ۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسی حال میں اجازت دی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میری چادر میں تھے ، جس حال میں سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں ۔ پھر یہ کہہ کر مجھ پر آئیں اور زبان درازی کی اور میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ کو دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں ، یہاں تک کہ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جواب دینے سے برا نہیں مانیں گے ، تب تو میں بھی ان پر آئی اور تھوڑی ہی دیر میں ان کو لاجواب کر دیا یا ان پر غالب آ گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا کہ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ہے ۔