العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، - وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَرِدُ عَلَىَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ " . قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا قَالَ " نَعَمْ لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لأَحَدٍ غَيْرِكُمْ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْكُمْ فَلاَ يَصِلُونَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ هَؤُلاَءِ مِنْ أَصْحَابِي فَيُجِيبُنِي مَلَكٌ فَيَقُولُ وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) reported that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'My people would come to me on the Cistern and I would drive away persons (from it) just as a person drives away other people's camels from his camels.' They (the hearers) submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), would you recognize us? He (blessings and peace of Allah be upon him) replied: 'Yes, you would have a mark which other people will not have. You would come to me with a white blaze on your foreheads and white marks on your feet because of the traces of ablution. A group among you would be prevented from coming to me, and they would not meet me, and I would say: O my Lord, they are my companions. Upon this an angel would reply to me saying: Do you know what these people did after you?'
الترجمة الأردية
(مروان کے بجائے) ابن فضیل نے ابو مالک اشجعی سے، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اسی طرح (دوسرے) لوگوں کو اس (حوض) سے دور ہٹاؤں گا جیسے ایک آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے۔'' صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)! کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''ہاں، تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی، تم میرے پاس وضو کے اثرات سے روشن چہرے اور چمکدار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے۔ تم میں سے ایک گروہ کو زبردستی میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا، تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس پر میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا اور کہے گا: کیا آپ جانتے ہیں انہوں نے آپ کے بعد کیا کام ایجاد کیے تھے؟''
