العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ أَنْ تَصْنَعَ، لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا لِنَفْسِهِ خَاصَّةً ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ وَسَمَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا فَقَالَ " كُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ " . فَأَكَلُوا حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ بِثَمَانِينَ رَجُلاً . ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ وَأَهْلُ الْبَيْتِ وَتَرَكُوا سُؤْرًا .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas b. Malik reported:Abu Hadrat Talha ordered Hadrat Umm Sulaim to prepare a meal specially for Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). He then sent me to him (to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) ; the rest of the hadith is the same (but there is a slight variation of wording):" Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) placed his hand and mentioned the name of Allah upon that, and then said: Admit ten men. He (Abu Hadrat Talha) admitted them and they got in. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) said: Eat while mentioning the name of Allah upon it (the meal). They ate until eighty persons had taken the food. Then Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) had his meal and so the members of the household, and still they left some food
الترجمة الأردية
عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ وہ خا ص طور پر صرف رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھا نا تیار کردے پھر مجھے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا گیا اس کے بعد حدیث بیان کی اور اس میں یہ ( بھی ) کہا : نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( کھانے پر ) اپنا ہاتھ رکھا اور اس پر بسم اللہ پڑھی پھر فرما یا : " دس آدمیوں کو اندر آنے کی ) اجازت دو " انھوں نے دس آدمیوں کو اجازت دی وہ اندر آئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا " بسم اللہ پڑھو اور کھا ؤ " تو ان لو گوں نے کھا یا حتی کہ اسی آدمیوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ( دس دس کواندر بلا یا بسم اللہ پڑھ کر کھا نے کو کہا ۔ ) اس کے بعد نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور گھر والوں نے کھا یا اور ( پھر بھی ) انھوں نے کھا نا بچا دیا ۔
