العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ " يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَىٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي لاَ أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلاَلِهَا " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) reported that when the verse: 'And warn your nearest kindred' was revealed, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) called the Quraysh. When they gathered, he (blessings and peace of Allah be upon him) addressed them generally and specifically, saying: 'O sons of Hadrat Ka'b bin Lu'ayy! Rescue yourselves from the Fire. O sons of Murra bin Ka'b! Rescue yourselves from the Fire. O sons of 'Abd Shams! Rescue yourselves from the Fire. O sons of 'Abd Manaf! Rescue yourselves from the Fire. O sons of Hashim! Rescue yourselves from the Fire. O sons of 'Abd al-Muttalib! Rescue yourselves from the Fire. O Hadrat Fatima! Rescue yourself from the Fire, for I have no power to avail you anything against Allah, except that you have ties of kinship which I shall moisten (by fulfilling their due).'
الترجمة الأردية
جریر نے عبد الملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے موسیٰ بن حضرت طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری: ''اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے'' تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کو بلایا۔ جب وہ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عمومی حیثیت سے (سب کو) اور خاص کر کے (الگ خاندانوں اور لوگوں کے ان کے نام لے لے کر) ارشاد فرمایا: ''اے کعب بن لؤی کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے مرہ بن کعب کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے عبد شمس کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے عبد مناف کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے ہاشم کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے عبد المطلب کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا، البتہ تمہارے رشتے ہیں جنہیں میں (ان کے حق کے مطابق) تر رکھوں گا۔''
