العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ، جَرَحَتْ إِنْسَانًا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ " . فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلاَنَةَ وَاللَّهِ لاَ يُقْتَصُّ مِنْهَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ الرَّبِيعِ الْقِصَاصُ كِتَابُ اللَّهِ " . قَالَتْ لاَ وَاللَّهِ لاَ يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا . قَالَ فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا الدِّيَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas reported that Umm Haritha, the sister of Rubayyi' (she was the father's sister of Hadrat Anas) injured a person (she broke his teeth). The dispute was referred to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated:Retribution, retribution. Umm Rubayyi' said: Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), will retribution be taken from so and so? By Allah, it shall not be taken from her (i. e. from Umm Haritha). Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)said: Hallowed be Allah. O Umm Rubayyi', Qisas (retribution is a command, prescribed) in the Book of Allah. She said: No, by Allah, Qisas will never be taken from her; and she went on saying this until they (the relatives of the one who had been injured) accepted the blood-wit. Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Verily there are amongst the servants of Allah (such pious persons) who, if they take oath of Allah, He honours it
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رُبیع رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( بنت نضر بن ضمضم ) کی بہن ، ام حارثہ نے کسی انسان کو زخمی کیا ( انہوں نے ایک لڑکی کو تھپڑ مار کر اس کا دانت توڑ دیا ، صحیح بخاری ) تو وہ مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " قصاص! قصاص! " تو ام رُبیع رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا فلاں عورت سے قصاص لیا جائے گا؟ اللہ کی قسم! اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا ، اس پر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " سبحان اللہ! اے ام ربیع! قصاص اللہ کی کتاب ( کا حصہ ) ہے ۔ " انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم! اس سے کبھی قصاص نہیں لیا جائے گا ( اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسا نہیں ہونے دے گا ۔ ) کہا : وہ مسلسل اسی بات پر ( ڈٹی ) رہیں حتی کہ وہ لوگ دیت پر راضی ہو گئے ۔ تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم کھائیں تو وہ ضرور اسے سچا کر دیتا ہے
