العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عِرَاكِ، بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتَأْذَنَ عَلَىَّ أَفْلَحُ بْنُ قُعَيْسٍ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ، لَهُ فَأَرْسَلَ إِنِّي عَمُّكِ أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي . فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat A'isha (Allah be pleased with her) reported:Aflah b. Qu'ais sought permission from me (to enter the house), but I refused to grant him the permission, and he sent me (the message saying): I am your uncle (in the sense) that the wife of my brother has suckled you, (but still) I refused to grant him permission. There came the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and I made a mention of it to him, and he said: He can enter (your house), for he is your uncle
الترجمة الأردية
حکم نے عراک بن مالک سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : قعیس کے بیٹے افلح نے میرے ہاں آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا ، انہوں نے پیغام بھیجا : میں آپ کا چچا ہوں ، میرے بھائی کی بیوی نے آپ کو دودھ پلایا ہے ، اس پر بھی میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس واقعے کا ذکر کیا ، آپ نے فرمایا : " وہ تمہارے سامنے آ سکتا ہے وہ تمہارا چچا ہے
