العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ هَلْ لِي فِيهَا مِنْ شَىْءٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ " . وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ .
الترجمة الإنجليزية
Yunus reported from Ibn Shihab, who said: Urwah ibn al-Zubayr informed me that Hadrat Hakim ibn Hizam (may Allah be well pleased with him) told him that he submitted to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him): What do you say about the acts of devotion that I used to perform during the Age of Ignorance for the sake of Allah's worship? Will I receive any reward for them? The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: You have accepted Islam along with all the good deeds you previously performed. (The word takhth refers to acts of devotion.)
الترجمة الأردية
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن حضرت زبیر نے خبر دی کہ انہیں حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: ان کاموں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو میں جاہلیت کے دور میں اللہ کی عبادت کی خاطر کرتا تھا؟ مجھے ان کا کچھ اجر ملے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو نیک کام پہلے کر چکے ہو تم نے ان سمیت اسلام قبول کیا ہے۔ تخث کا مطلب عبادت گزاری ہے۔
