العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ فَزِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا - قَالَتْ تَعْنِي يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ - فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ فَقَامَ لِلنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلاً لَوْ أَنَّ إِنْسَانًا أَتَى لَمْ يَشْعُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَكَعَ مَا حَدَّثَ أَنَّهُ رَكَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ .
الترجمة الإنجليزية
Yahya ibn Habib al-Harithi narrated to us, he said Khalid ibn al-Harith narrated to us, he said Ibn Jurayj narrated to us, (he said) Mansur ibn Abd al-Rahman narrated to me from his mother Hadrat Safiyya bint Shayba, from Hadrat Asma bint Abi Bakr (may Allah be well pleased with her), she said: One day the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) went out in haste — she means the day when the sun eclipsed — so he (blessings and peace of Allah be upon him) took hold of a woman's garment (in haste), until later his own cloak was brought to him. He stood leading the people in an extremely long prayer. If a person came (newly), he would not realize that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had bowed — as mentioned regarding the bowing in connection with the long standing — because the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had prolonged the recitation greatly.
الترجمة الأردية
ہم سے یحییٰ بن حبیب حارثی نے حدیث بیان کی، کہا ہم سے خالد بن حارث نے حدیث بیان کی، کہا ہم سے ابن جریج نے حدیث بیان کی، (کہا) مجھ سے منصور بن عبدالرحمٰن نے اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے، انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تیزی سے (باہر) تشریف لے گئے — فرماتی ہیں: ان کی مراد اس دن سے تھی جس دن سورج کو گرہن لگا تھا — تو (جلدی میں) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک زنانہ قمیض اٹھا لی، یہاں تک کہ بعد میں آپ کو آپ کی ردا (چادر) لا کر دی گئی۔ پھر آپ نے لوگوں کی امامت کرتے ہوئے انتہائی طویل قیام فرمایا۔ اگر کوئی انسان (نیا) آتا تو اسے معلوم نہ ہوتا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا ہے — جیسا کہ طویل قیام کے بارے میں رکوع کا ذکر ہوا — اس وجہ سے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قراءت طویل فرمائی تھی۔
