العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي، عَاصِمٍ - وَاللَّفْظُ لِعُقْبَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّهَا قَالَتْ لِلَعَّابِينَ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقُمْتُ عَلَى الْبَابِ أَنْظُرُ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ . قَالَ عَطَاءٌ فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ . قَالَ وَقَالَ لِي ابْنُ عَتِيقٍ بَلْ حَبَشٌ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat A'isha said that she sent a message to the players (of this armed fight) saying:I like to see them (fighting). She further said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood up and I stood at the door (behind him) and saw (this fight) between his ears and his shoulders they played in the mosque. 'Ata' (one of the narra- tors) said: Were they persians or Abyssinians? Ibn 'Atiq told me they were Abyssinians
الترجمة الأردية
عطاء نے بتایا کہ مجھے عبید بن عمیر نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ انھوں نے کھیلنے والوں کے بارے میں کہا : میں ان کاکھیل دیکھناچاہتی ہوں ۔ کہا : اس پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور میں دروازے پر کھڑی ہوکر آپ کے کانوں اور کندھوں کےدرمیان سے دیکھنے لگی اور وہ لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے ۔ عطاء نے کہا : وہ ایرانی تھے یا حبشی ۔ اور کہا : مجھے ابن عتیق یعنی عبید بن عمیر نے بتایا کہ وہ حبشی تھے ۔
