العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي - وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَىْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ . فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ حَرِيصَةً عَلَى اللَّهْوِ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat A'isha reported:BY Allah, I remember the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) standing on the door of my apartment screening me with his mantle enabling me to see the sport of the Abyssinians as they played with their daggers in the mosque of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (may peace be upom him). He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) kept standing for my sake till I was satiated and then I went back; and thus you can well imagine how long a girl tender of age who is fond of sports (could have watched it)
الترجمة الأردية
یونس نے ابن شہاب سے او انھوں نے عروہ بن حضرت زبیر سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم !میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہیں اور حبشی اپنے چھوٹے نیزوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں کھیل ( مشقین کر رہے ) رہے تھے ۔ اور آپ مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے ہیں تاکہ میں ان کے کرتب دیکھ سکوں ، پھر آپ میری خاطر کھڑے رہے حتیٰ کہ میں ہی ہوں جو واپس پلٹی ، اندازہ کرو ایک نو عمر لڑکی کا شوق کس قدر ہوگا جو کھیل کی شوقین ہو ( کتنی دیر تک کھڑی رہی ہوگی ۔)
