العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ قَالَ أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ . قَالَ فَصَلُّوا الْعَصْرَ . فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تِلْكَ صَلاَةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَىِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا لاَ يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلاَّ قَلِيلاً " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Yahya ibn Ayyub, Muhammad ibn al-Sabbah, Qutaibah, and Ibn Hujr all said: Isma'il ibn Ja'far narrated to us from al-'Ala' ibn Hadrat 'Abd al-Rahman that he came to the house of Hadrat Anas (ibn Malik, may Allah be well pleased with him) in Basrah after the Zuhr prayer. His house was by the side of the mosque. When we came to him, he asked: Have you prayed 'Asr? We said: We have just now finished the Zuhr prayer. He said: Then pray the 'Asr. So we stood up and prayed. When we finished, he said: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: 'That is the prayer of the hypocrite — he sits watching the sun until it is between the two horns of Shaitan, then he stands up and strikes the ground four times (in haste), remembering Allah only a little in it.'
الترجمة الأردية
یحییٰ بن ایوب، محمد بن صباح، قتیبہ اور ابن حجر سب نے کہا ہمیں اسماعیل بن جعفر نے علاء بن عبد الرحمٰن سے حدیث سنائی کہ وہ نماز ظہر سے فارغ ہو کر حضرت انس (بن مالک) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں بصرہ میں ان کے گھر حاضر ہوئے، ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا، جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کی: ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر آئے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو عصر پڑھ لو۔ ہم نے اٹھ کر (عصر کی) نماز پڑھ لی، جب ہم فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ''یہ منافق کی نماز ہے، وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ (جب وہ زرد پڑ کر) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان چلا جاتا ہے تو کھڑا ہو کر اس (نماز) کی چار ٹھونگیں مار دیتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتا ہے۔''
