العربية (الأصل)
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: «إِنِّي أهم فِي صَلَاتي فيكثر ذَلِك عَليّ فَقَالَ الْقَاسِم بن مُحَمَّد امْضِ فِي صَلَاتك فَإِنَّهُ لن يذهب عَنْكَ حَتَّى تَنْصَرِفَ وَأَنْتَ تَقُولُ مَا أَتْمَمْتُ صَلَاتي» . رَوَاهُ مَالك
الترجمة الإنجليزية
Al-Qasim b. Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) said that a man told him he was greatly distressed by wandering thoughts while he was engaged in prayer. He told him to persevere with his prayer, explaining that he would not be free from that till he said when he finished his prayer, “I have not performed my prayer perfectly.” Malik transmitted it.
الترجمة الأردية
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے شکایت کی کہ نماز میں اسے بہت وسوسے آتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: نماز جاری رکھو، تم اس سے اس وقت تک آزاد نہ ہو گے جب تک تم نماز ختم کر کے یہ نہ کہو: میں نے اپنی نماز اچھی طرح ادا نہیں کی۔ یعنی وسوسے سے آزاد ہونا ممکن نہیں، جب تک نماز پڑھتے رہو گے وسوسے آتے رہیں گے۔ (مالک)
