العربية (الأصل)
وَعَن أنس قَالَ: أَتَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا قَالَ أَنَسٌ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسِمَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِقَضِيبٍ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حسنا. فَقلت: أما إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيب
الترجمة الإنجليزية
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whenever a man makes a claim for which there is no basis, he has taken a seat for himself in the Fire." In one narration: "Then let him take his seat in the Fire." This has been mentioned previously. Reported by Muslim.
الترجمة الأردية
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، حسین رضی اللہ عنہ کے سر کو عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا تو اسے ایک طشت میں رکھ دیا گیا، وہ (چھڑی کے ساتھ) مارنے لگا اور اس نے ان کے حسن کے بارے میں کچھ کہا، انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ تھے، اور اس وقت ان کے سر مبارک پر وسمہ لگا ہوا تھا۔ ترمذی کی روایت میں ہے، انہوں نے کہا: میں ابن زیاد کے پاس تھا کہ حسین رضی اللہ عنہ کا سر لایا گیا، تو وہ آپ کی ناک پر چھڑی مارنے لگا، اور کہنے لگا: میں نے ایسا حسن نہیں دیکھا، میں نے کہا: سن لے! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے۔ رواہ البخاری و الترمذی۔[مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6179]
