العربية (الأصل)
وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثلاثٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ»قَالَ: وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا»وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ: «اعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
الترجمة الإنجليزية
'A'ishah (may Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I saw myself in a dream, and the angel brought you to me in a piece of silk, and he said: 'This is your wife.' I uncovered it and it was you. I said: 'If this is from Allah, He will bring it to pass.'" Agreed upon.
الترجمة الأردية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے بنو تمیم کے متعلق جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین خصلتیں سنی ہیں، تب سے میں انہیں محبوب رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”میری امت میں سے وہ دجال پر سب سے زیادہ سخت ہوں گے۔“راوی بیان کرتے ہیں، ان کے صدقات آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔“اور عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے کچھ قیدی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”انہیں آزاد کر دو کیونکہ وہ اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے ہیں۔“متفق علیہ۔[مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 5987]
