العربية (الأصل)
وَزَادَ الْبُخَارِيُّ: حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-فِيمَا بَلَغَنَا-حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مرَارًا كي يتردَّى منْ رؤوسِ شَوَاهِقِ الْجَبَلِ فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا. فَيَسْكُنُ لذلكَ جأشُه وتقرُّ نفسُه
الترجمة الإنجليزية
Al-Bukhari added: Until the Prophet (peace be upon him) — according to what has reached us — became so grieved that he went several times to throw himself from the peaks of the mountains. Every time he reached the summit of a mountain to throw himself off, Jibril would appear to him and say: 'O Muhammad, you are truly the Messenger of Allah.' This would calm his heart and his soul would be at ease. Narrated by al-Bukhari.
الترجمة الأردية
اور امام بخاری ؒ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین ہو گئے، ہمیں جو روایات پہنچی ہیں، ان کے مطابق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید غمگین ہو گئے، کئی دفعہ ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی سے اپنے آپ کو نیچے گرا لیں، وہ جب بھی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر اپنے آپ کو گرانے لگتے تو جبریل ؑ آپ کے سامنے آ جاتے اور کہتے: محمد! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، اس سے آپ کا قلبی اضطراب ختم ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکون محسوس کرتے۔ رواہ البخاری۔[مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5842]
