العربية (الأصل)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يُنتهك حرمةُ الله فينتقم لله بهَا. مُتَّفق عَلَيْهِ
الترجمة الإنجليزية
'A'ishah (may Allah be pleased with her) reported: Whenever the Messenger of Allah (peace be upon him) was given a choice between two matters, he would choose the easier of the two, as long as it was not sinful. If it was sinful, he would be the farthest of people from it. The Messenger of Allah (peace be upon him) never took revenge for himself in any matter, unless the sanctity of Allah was violated, in which case he would take revenge for the sake of Allah. Agreed upon.
الترجمة الأردية
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو کاموں میں سے ایک کا اختیار دیا جاتا تو آپ ان دونوں میں سے آسان تر کو اختیار فرماتے تھے، بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا، اگر اس میں گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کے متعلق کسی معاملے میں انتقام نہیں لیا، اگر اللہ کی حدود پامال کی جاتیں تو آپ اس میں اللہ کی رضا کی خاطر انتقام لیا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔[مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5817]
