العربية (الأصل)
وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وسم: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الْهَوَى وَطُولُ الْأَمَلِ فَأَمَّا الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ وَأما طول الأمل فيُنسي الْآخِرَةَ وَهَذِهِ الدُّنْيَا مُرْتَحِلَةٌ ذَاهِبَةٌ وَهَذِهِ الْآخِرَةُ مُرْتَحِلَةٌ قَادِمَةٌ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ فَإِنِ اسْتَطَعْتُم أَن لَا تَكُونُوا بَنِي الدُّنْيَا فَافْعَلُوا فَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ فِي دَارِ الْعَمَلِ وَلَا حِسَابَ وَأَنْتُمْ غَدًا فِي دَارِ الْآخِرَةِ وَلَا عَمَلَ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»
الترجمة الإنجليزية
A'ishah reported: The Messenger of Allah (peace be upon him) passed away and there was nothing on my shelf that a living creature could eat except half a measure of barley on a shelf of mine. I ate from it for a long time, then I measured it and it soon ran out. Agreed upon.
الترجمة الأردية
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”مجھے اپنی امت کے متعلق خواہش نفس اور طول آرزو کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے، کیونکہ خواہش نفس حق سے روکتی ہے جبکہ طول آرزو آخرت بھلا دیتی ہے، اور یہ دنیا (غیر محسوس طریقے سے) چلی جا رہی ہے جبکہ آخرت (اسی طرح) چلی آ رہی ہے، اور دونوں میں سے ہر ایک کے طلبگار ہیں، تم دنیا کے طلبگار نہ بنو، عمل کرتے رہو، کیونکہ آج تم دارِ عمل میں ہو اور کوئی حساب نہیں، اور کل دارِ آخرت میں ہو گے اور کوئی عمل نہیں ہو گا۔“اسنادہ ضعیف جذا، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔[مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5214]
