العربية (الأصل)
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ عَلَيَّ وَقَالَ: «ادْخُلْ»فَقُلْتُ: أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «كُلُّكَ»فَدَخَلْتُ. قَالَ عُثْمَان بن أبي عَاتِكَة: إِنَّمَا قَالَ أَدْخُلُ كُلِّي مِنْ صِغَرِ الْقُبَّةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الترجمة الإنجليزية
Aishah, may Allah be pleased with her, reported: The Messenger of Allah, peace be upon him, entered upon me while a man was sitting with me. He seemed displeased by that. She said: I saw anger in his face. I said: "O Messenger of Allah, he is my foster brother." He said: "Consider carefully who your foster brothers are, for breastfeeding is only valid from hunger in infancy."
الترجمة الأردية
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ چمڑے کے چھوٹے سے خیمے میں تھے، میں نے سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سلام کا جواب دیا اور فرمایا:”اندر آ جاؤ۔“میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سارا (اندر آ جاؤں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”تم سارے کے سارے (اندر آ جاؤ)۔“میں اندر چلا گیا، عثمان بن ابی عاتکہ (راوی) بیان کرتے ہیں، اس نے کہا: کیا میں چھوٹے سے خیمے میں سارے کا سارا آ جاؤں؟ صحیح، رواہ ابوداؤد۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4890]
