العربية (الأصل)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صفر». فَقَالَ أَعْرَابِي: يَا رَسُول فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ لَكَأَنَّهَا الظباء فيخالها الْبَعِير الأجرب فيجر بِهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمن أعدى الأول». رَوَاهُ البُخَارِيّ
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There is no contagion, no owl (superstition), and no month of Safar (superstition)." A Bedouin said: "O Messenger of Allah, what about the camels that are in the sand like deer, and then a mangy camel mixes with them and they all become mangy?" The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Then who infected the first one?" Narrated by al-Bukhari.
الترجمة الأردية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ الّو منحوس ہے اور نہ ہی ماہ صفر۔“(یہ سن کر) ایک دیہاتی نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ان اونٹوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو ریگستان میں رہتے ہیں اور وہ ہرن معلوم ہوتے ہیں، اس میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو جاتا ہے تو وہ انہیں بھی خارش لگا دیتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”تو پھر پہلے (اونٹ) کو کس نے خارش زدہ کیا؟“رواہ البخاری۔[مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4578]
