العربية (الأصل)
وَعَن معَاذ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ: «أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ لِلَّهِ وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ قَالَ وماذا يَا رَسُول الله قَالَ وَأَن تحب للنَّاس مَا تحب لنَفسك وَتَكْرَهُ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
الترجمة الإنجليزية
He also said that he asked the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) what was the most excellent aspect of faith, and received the reply, “That you should love for God’s sake, hate for God’s sake, and employ your tongue in making mention of God.” “What more, messenger of God?” he asked and was told, “That you should like other people to have what you like yourself, and dislike that they should have what you dislike yourself.” Ahmad transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کا افضل ترین پہلو کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: یہ کہ تو اللہ کے لیے محبت کرے، اللہ کے لیے بغض رکھے اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں مشغول رکھے۔ عرض کیا: اور کیا، یا رسول اللہ؟ ارشاد فرمایا: یہ کہ لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو اور ان کے لیے وہ ناپسند کرو جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو۔ (احمد)
