العربية (الأصل)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا سَأَلَهُ اللَّهُ عَنْ قَتْلِهِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: «أَنْ يَذْبَحَهَا فَيَأْكُلَهَا وَلَا يَقْطَعَ رَأْسَهَا فَيَرْمِيَ بِهَا» . رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ والدرامي
الترجمة الإنجليزية
‘Abdallah b. ‘Amr b. al-‘As reported God’s messenger as saying, “If anyone kills a sparrow or anything greater wrongfully God will question him about killing it.” On being asked what was the right way he replied, “To cut its throat and eat it, but not to cut off its head and throw it away.” Ahmad, Nasa’i and Darimi transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چڑیا یا اس سے بڑے جانور کو بے جا مارا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے اس کے بارے میں سوال فرمائے گا۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا: اس کا حق یہ ہے کہ ذبح کر کے کھائے نہ کہ سر کاٹ کر پھینک دے۔ (احمد، نسائی اور دارمی)
