العربية (الأصل)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِليه فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ» فَجَاءَ فَجَلَسَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ» . قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تَقْتُلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ. قَالَ: «لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بحُكْمِ المَلِكِ» . وَفِي رِوَايَة: «بِحكم الله»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Sa'id al-Khudri said:When the B. Quraiza surrendered agreeing to have their fate decided by Sa‘d b. Mu'adh God’s Messenger sent for him and he came on an ass. When he drew near the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said, “Rise up in respect to your chief.” Then when he had come and sat down the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said, “These people have surrendered agreeing that you should decide their fate,” so he said, “I decide that the fighting men be killed and that the offspring be taken into captivity.” He then declared, “You have given regarding them the decision of the King.” A version has, “God’s decision.” (Bukhari and Muslim.)
الترجمة الأردية
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب بنو قریظہ نے حضرت سعد بن حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا۔ وہ گدھے پر سوار آئے۔ جب قریب آئے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ وہ آئے اور بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے تمہارے فیصلے پر ہتھیار ڈالے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: میرا فیصلہ ہے کہ لڑنے والے قتل کیے جائیں اور ذریت قید کی جائے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم نے ان کے بارے میں بادشاہ کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اللہ کا فیصلہ۔ (متفق علیہ)
