العربية (الأصل)
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: حَسْبِيَ اللَّهُ ونِعْمَ الوكيلُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الترجمة الإنجليزية
‘Auf b. Malik told that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) gave a decision between two men and that when the one against whom the decision had been given turned away he said, “My sufficiency is God, and good is the Guardian." Thereupon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, “God most high blames for falling short, hut apply intelligence, and when a matter gets the better of you say, 'My sufficiency is God, and good is the Guardian’. (Al-Qur’an, 3:173) Abu Dawud transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ فرمایا۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا اس نے پیٹھ پھیرتے ہوئے کہا: حسبی اللہ ونعم الوکیل (اللہ مجھے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ عاجزی پر ملامت فرماتا ہے لیکن تمہیں عقلمندی اختیار کرنی چاہیے۔ پھر جب کوئی معاملہ تم پر غالب آ جائے تو کہو: حسبی اللہ ونعم الوکیل۔ (حضرت ابوداؤد)
