العربية (الأصل)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي؟ قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ ضَعِيفٌ وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ لَهُ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Dharr told that he asked God’s Messenger to make him a governor, but he struck him on his shoulder with his hand and said, “You are weak, Hadrat Abu Dharr, and it is a trust which will be a cause of shame and regret on the day of resurrection except for him who undertakes it as it ought to be undertaken and fulfils his duty in it.” In a version he said to him, “I see that you are weak, Hadrat Abu Dharr, and I wish for you what I wish for myself. Do not accept rule over two people and do not become guardian of an orphan’s property.” Muslim transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟ آپ نے اپنا دستِ مبارک میرے کندھے پر مارا، پھر ارشاد فرمایا: اے حضرت ابو ذر! تم کمزور ہو اور یہ امانت ہے، اور یہ قیامت کے دن ذلت اور ندامت ہے، سوائے اس شخص کے جو اسے حق کے ساتھ لے اور اس میں جو ذمہ داری ہے وہ پوری کرے۔ ایک روایت میں ہے: آپ نے فرمایا: اے حضرت ابو ذر! میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں اور میں تمہارے لیے وہ پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں، کبھی دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کا ولی بننا۔ (مسلم)
