العربية (الأصل)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدَ ضَادَّ اللَّهَ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سُخْطِ اله تَعَالَى حَتَّى يَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَفِي روايةٍ للبيهقيِّ فِي شعبِ الْإِيمَان «مَنْ أَعانَ على خُصُومَةً لَا يَدْرِي أَحَقٌّ أَمْ بَاطِلٌ فَهُوَ فِي سَخطِ اللَّهِ حَتَّى ينْزع»
الترجمة الإنجليزية
‘Abdallah b. ‘Umar told that he heard God’s Messenger say, “If anyone’s intercession intervenes as an obstacle to one of the punishments prescribed by God he has opposed God; if anyone disputes knowingly about something which is false he remains in the displeasure of God most high till he desists; and if anyone makes an untruthful accusation against a Muslim he will be made by God to dwell in the corrupt fluid flowing from the inhabitants of hell* till he retracts his statement.” Ahmad and Abu Dawud transmitted it. * Radghat al-khabal. In a version by Baihaqi in Shu'ab al-iman it says, “He who assists in a dispute, not knowing whether it is true or false, will remain in God’s displeasure till he desists.” Baihaqi in Shu'ab al-iman
الترجمة الأردية
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جس شخص کی سفارش اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے آڑے آئے تو اس نے اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کیا، اور جو شخص جانتے بوجھتے باطل میں جھگڑا کرے وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہے گا جب تک باز نہ آئے، اور جو شخص کسی مومن پر ایسی بات کہے جو اس میں نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے ردغۃ الخبال (جہنمیوں کا پیپ) میں ٹھہرائے گا جب تک اس نے جو کہا اس سے رجوع نہ کرے۔ احمد اور ابو داؤد نے اسے روایت کیا۔ بیہقی کی شعب الایمان کی روایت میں ہے: جو شخص کسی جھگڑے میں مدد کرے جبکہ اسے معلوم نہ ہو کہ وہ حق ہے یا باطل، تو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہے گا جب تک باز نہ آئے۔
