العربية (الأصل)
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فقاتلَ إِنساناً فعض أَحدهمَا الْآخَرِ فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ: «أَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا كَالْفَحْلِ»
الترجمة الإنجليزية
Ya’ la b. Umayya said:I went with God’s Messenger on the expedition of the army of distress,* and I had a hired servant who fought with a man, one of whom bit the other’s hand. The one who was bitten drew away his hand from the mouth of the one who bit him, dislodging his front tooth which fell out. He went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), but he imposed no retaliation for his front tooth, saying, ‘Could he be expected to leave his hand in your mouth when you were crunching it like a male camel?” (Bukhari and Muslim.) * This refers to the expedition to Tabuk in 9 A H. Cf. Al-Qur'an, 9:117.
الترجمة الأردية
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جیش العسرۃ (غزوۂ تبوک) میں جہاد کیا۔ میرا ایک مزدور تھا، اس نے ایک آدمی سے لڑائی کی اور ایک نے دوسرے کو کاٹ لیا۔ کاٹے جانے والے نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے کھینچا تو اس کا اگلا دانت اکھاڑ دیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ نے اس کا دانت رائگاں قرار دیا اور فرمایا: «کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں رکھے رہے اور تم اسے اونٹ کی طرح چباتے رہو؟» (بخاری و مسلم)
