العربية (الأصل)
وَعَن أُمِّ سلمَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جعلتُ عليَّ صَبِراً فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟» . قُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ صَبِرٌ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ فَقَالَ: «إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ وَتَنْزِعِيهِ بِالنَّهَارِ وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خضاب» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Umm Salama said:God’s Messenger came to visit me when Abu Salama died, and I had put the juice of aloes on myself. He asked me what it was, and I told him it was only the juice of aloes and contained no perfume, so he said, “It gives the face a glow, so apply it only at night and remove it in the daytime, and do not comb yourself with scent or henna, for it is a dye.” I asked God’s Messenger what I should use when combing myself, and he told me to use lote-tree leaves and smear my head copiously with them. Abu Dawud and Nasa’i transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے صبر (ایلوا) لگایا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ صرف صبر ہے، اس میں خوشبو نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ چہرے کو چمکاتا ہے، اسے صرف رات کو لگاؤ اور دن میں اتار دو۔ خوشبو اور مہندی سے کنگھی نہ کرو کیونکہ یہ خضاب ہے۔ (حضرت ابوداؤد، نسائی)
