العربية (الأصل)
وَعَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «أَنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ» قَالَت: فَقلت: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يرضعني الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّه عمك فليلج عَلَيْك» وَذَلِكَ بَعْدَمَا ضرب علينا الْحجاب
الترجمة الإنجليزية
She said:My paternal uncle through fosterage came and asked permission to enter, but I refused to allow him till I asked God’s Messenger. When he came I asked him and he said, “He is your paternal uncle, so give him permission.” I replied, “Messenger of God, it was only the woman who suckled me and not the man” whereupon he said, “He is your paternal uncle, so let him come in where you are.” That was after seclusion was instituted for us. (Bukhari and Muslim.)
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میرے رضاعی چچا آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے اجازت دینے سے انکار کیا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں، تمہارے پاس آ سکتے ہیں۔ یہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ (بخاری و مسلم)
