العربية (الأصل)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أول الْإِسْلَام كَانَ الرجل يقدم الْبَلدة لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يرى أَنَّهُ يُقِيمُ فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ لَهُ شَيَّهُ حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الْآيَةُ (إِلَّا عَلَى أَزوَاجهم أَو مَا ملكت أَيْمَانهم) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَاهُمَا فَهُوَ حرَام. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn ‘Abbas said:The temporary marriage applied only in the early days of Islam. A man would come to a settlement where he had no acquaintance and marry a woman for the period it was thought he would stay there, and she would look after his belongings and cook for him. But Ibn ‘Abbas said that when the verse came down, “Except their wives or the captives their right hands possess,” (Al-Qur’an 23:6) intercourse with anyone else became unlawful. Tirmidhi transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: متعہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا۔ آدمی کسی شہر میں آتا جہاں اس کی کوئی جان پہچان نہ ہوتی تو ایک عورت سے اس مدت کے لیے نکاح کر لیتا جتنی مدت وہاں رہنا ہوتا۔ وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی اور اس کے لیے کھانا بناتی۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: سوائے اپنی بیویوں کے یا ان کے جو ان کی ملکیت میں ہوں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: ان دونوں کے علاوہ ہر شرمگاہ حرام ہے۔ (ترمذی)
