العربية (الأصل)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَتَاهُ الْمُهَاجِرُونَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا قَوْمًا أَبْذَلَ مِنْ كَثِيرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً مِنْ قَلِيلٍ مِنْ قَوْمٍ نَزَلْنَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ: لَقَدْ كَفَوْنَا المؤونة وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأِ حَتَّى لَقَدْ خِفْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ فَقَالَ: «لَا مَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ لَهُمْ وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas said that when God’s Messenger came to Medina the Emigrants came to him and said, “Messenger of God, we have never seen people more liberal out of abundance or better in giving help when they have little than a people among whom we have settled. They have removed our trouble and shared with us their pleasant things so that we are afraid they will get the whole reward." He replied, ‘No, as long as you make supplication to God for them and express commendation of them*.” * They have no reason to fear that the Ansar will get all the reward from God so long as due expression of thanks is made. Tirmidhi transmitted it saying that it is sahih.
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مہاجرین حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے کسی قوم کو اتنا فیاض نہیں دیکھا جو کثرت سے خرچ کرے اور نہ قلت سے اتنا اچھا مواسات کرے جس قوم میں ہم اترے ہیں۔ انہوں نے ہمارا بوجھ اٹھایا اور ہمیں عیش میں شریک کیا یہاں تک کہ ہمیں ڈر ہے کہ سارا اجر وہی لے جائیں گے۔ آپ نے فرمایا: نہیں، جب تک تم ان کے لیے اللہ سے دعا کرتے رہو اور ان کی تعریف کرتے رہو (تمہیں بھی اجر ملے گا)۔ (ترمذی نے صحیح کہا)
