العربية (الأصل)
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا أَوَانٌ يُخْتَلَسُ فِيهِ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ على شَيْء» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Darda’ told how God’s messenger, on an occasion when they were with him, turned his eyes to the sky and said, "This is a time when knowledge will be snatched away from men, so that they will be unable to acquire any.” Tirmidhi transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور فرمایا: یہ وہ وقت ہے جب علم لوگوں سے چھین لیا جائے گا یہاں تک کہ ان میں اس کی طاقت نہ رہے گی۔ حضرت زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سے علم کیسے چھینا جائے گا جبکہ ہم نے قرآن پڑھا ہے؟ اللہ کی قسم! ہم خود بھی پڑھیں گے اور اپنی عورتوں اور اولاد کو بھی پڑھائیں گے۔ ارشاد فرمایا: تم پر تمہاری ماں روئے زیاد! میں تمہیں مدینہ کے سب سے بڑے فقہاء میں سمجھتا تھا۔ کیا تورات اور انجیل یہود و نصاریٰ کے پاس نہیں ہیں؟ ان کے کیا کام آتی ہیں؟ (ترمذی، ابن ماجہ)
