العربية (الأصل)
وَعَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ مَاتَ لَهُ ابْنٌ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ. قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا لَهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: تَقُولُ: هُمْ أَرْبَعُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَخْرِجُوهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ فِيهِ» . رَوَاهُ مُسلم
الترجمة الإنجليزية
Kuraib the client of Ibn ‘Abbas told that a son of ‘Abdallah b. ‘Abbas died in Qudaid or ‘Usfan and he asked him to go out and see how many people had gathered for the funeral. Going out and finding that people had gathered for the funeral, he told him. Ibn ‘Abbas asked him if he thought there would be forty present, and when he replied that was so, he gave orders for the body to be brought out, adding that he had heard God’s messenger say, "If any Muslim man dies and forty men who associate nothing with God stand over his bier, God will accept them as intercessors for him.” Muslim transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت کریب جو حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ مقام قدید یا عسفان میں ان کا ایک بیٹا فوت ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا: اے کریب! دیکھو لوگ کتنے جمع ہوئے ہیں۔ کریب فرماتے ہیں: میں نکلا تو لوگ جمع ہو چکے تھے، میں نے انہیں بتایا۔ فرمایا: کیا چالیس ہوں گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: جنازہ نکالو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کسی مسلمان کی نماز جنازہ چالیس ایسے آدمی پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔ (مسلم)
