العربية (الأصل)
وَعَن أنس قَالَ: دخل النَّبِي عَلَى شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَقَالَ: «كَيْفَ تجدك؟» قَالَ: أرجوالله يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنِّي أَخَافُ ذُنُوبِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُو وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيث غَرِيب
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas said that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) visited a young man who was dying and asked him how he was. He replied, “I am hoping in God, messenger of God, but I am afraid of my sins,” whereupon the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said, “The two cannot come together in a man’s heart at such a time without God giving him what he hopes for and granting him security from what he fears.” Tirmidhi and Ibn Majah transmitted it, Tirmidhi saying that this is a gharib tradition.
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک نوجوان کے پاس آئے جو نزع کی حالت میں تھا، آپ نے فرمایا: تو اپنے آپ کو کیسا پاتا ہے؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور مجھے اپنے گناہوں کا ڈر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسے موقع پر یہ دونوں چیزیں (امید اور خوف) کسی بندے کے دل میں جمع نہیں ہوتیں مگر اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا فرماتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اس چیز سے محفوظ فرماتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
