العربية (الأصل)
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن شِئْتُم أنبأتكم مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُولُونَ لَهُ؟» قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُول للْمُؤْمِنين هَل أَحْبَبْتُم لقائي؟ فَيَقُولُونَ نَعَمْ يَا رَبَّنَا فَيَقُولُ: لِمَ؟ فَيَقُولُونَ: رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ. فَيَقُولُ: قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي ". رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْية
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Mu'adh b. Jabal told of God’s messenger saying that if they wished he would tell them the first thing God would say to the believers on the day of resurrection and the first thing they would say to Him. When his hearers expressed a desire to be told, he said that God would say to the believers, “Did you wish to meet me?” and that they would reply, “Yes, our Lord.” He would ask them why, and they would reply that it was because they hoped for His forgiveness and pardon. He would then say, “My forgiveness has become necessary for you.” transmitted it in Sharh as-sunna and Abu Nu'aim in al-Hilya.
الترجمة الأردية
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاؤں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے سب سے پہلے کیا فرمائے گا اور مؤمن اس سے سب سے پہلے کیا عرض کریں گے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے فرمائے گا: کیا تم میری ملاقات سے محبت کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے: جی ہاں، ہمارے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ کیوں؟ وہ عرض کریں گے: ہم تیری بخشش اور مغفرت کی امید رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تمہارے لیے اپنی مغفرت واجب کر دی۔ (احمد)
