العربية (الأصل)
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنَا حلقا فَقَالَ: «مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ؟» ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُولَى وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفّ» . رَوَاهُ مُسلم
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Jabir b. Samura said:God’s Messenger came out to us and when he saw us sitting in circles he said, “How is it that I see you in separate companies?” On another occasion he came out to us and said, “Why do you not draw yourselves up in rows as the angels do in the presence of their Lord?” We asked, "Messenger of God, how do the angels draw themselves up in rows in the presence of their Lord?” He replied, "They make the first rows complete and keep close together in the row.” Muslim transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں حلقوں میں بیٹھے دیکھ کر ارشاد فرمایا: مجھے کیا ہوا کہ میں تمہیں الگ الگ ٹکڑیوں میں دیکھ رہا ہوں؟ پھر ایک اور مرتبہ باہر تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم ایسی صفیں نہیں بنا سکتے جیسے فرشتے اپنے رب کے حضور صف بندی کرتے ہیں؟ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرشتے اپنے رب کے حضور کیسے صف بندی کرتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: وہ پہلے اگلی صفیں مکمل کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ (مسلم)
