العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْعِلْمِ يَقُولُونَ إِذَا مَاتَتِ الْمَرْأَةُ وَلَيْسَ مَعَهَا نِسَاءٌ يُغَسِّلْنَهَا وَلاَ مِنْ ذَوِي الْمَحْرَمِ أَحَدٌ يَلِي ذَلِكَ مِنْهَا وَلاَ زَوْجٌ يَلِي ذَلِكَ مِنْهَا يُمِّمَتْ فَمُسِحَ بِوَجْهِهَا وَكَفَّيْهَا مِنَ الصَّعِيدِ . قَالَ مَالِكٌ وَإِذَا هَلَكَ الرَّجُلُ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِلاَّ نِسَاءٌ يَمَّمْنَهُ أَيْضًا . قَالَ مَالِكٌ وَلَيْسَ لِغُسْلِ الْمَيِّتِ عِنْدَنَا شَىْءٌ مَوْصُوفٌ وَلَيْسَ لِذَلِكَ صِفَةٌ مَعْلُومَةٌ وَلَكِنْ يُغَسَّلُ فَيُطَهَّرُ .
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik that he had heard people of knowledge say, "When a woman dies and there are no women with her to wash her and no man who has the right by blood ties to take charge of that for her and no husband to take charge of it for her, she should be purified by tayammum ,that is, by wiping her face and hands with earth." Malik said, "When a man dies and there are only women with him, they also should purify him with earth ." Malik said, "There is no particular way with us for washing the dead nor any recognised way to do it. They are just washed and purified."
الترجمة الأردية
امام مالک نے اہل علم سے سنا کہ وہ کہتے تھے: جب عورت فوت ہو جائے اور اس کے ساتھ کوئی عورت نہ ہو جو اسے غسل دے اور نہ محرم مرد ہو نہ شوہر ہو تو اسے تیمم کرایا جائے یعنی مٹی سے اس کے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا جائے۔ امام مالک فرماتے ہیں: اسی طرح جب مرد فوت ہو اور اس کے ساتھ صرف عورتیں ہوں تو وہ بھی تیمم کرائیں۔ امام مالک فرماتے ہیں: میت کے غسل کا ہمارے نزدیک کوئی مقررہ طریقہ نہیں ہے اور اس کی کوئی مخصوص صفت معلوم نہیں، میت کو صاف دھو دیا جائے۔
