العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَرَأَ سَجْدَةً وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ ثُمَّ قَرَأَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى فَتَهَيَّأَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ فَقَالَ عَلَى رِسْلِكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكْتُبْهَا عَلَيْنَا إِلاَّ أَنْ نَشَاءَ . فَلَمْ يَسْجُدْ وَمَنَعَهُمْ أَنْ يَسْجُدُوا.
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Umar ibn al-Khattab once recited a piece of Qur'an requiring a prostration while he was on the mimbar on the day of jumua, and he came down and prostrated, and everyone prostrated with him. Then he recited it again the next jumua and everybody prepared to prostrate but he said, "At your ease. Allah has not prescribed it for us, unless we wish." He did not prostrate, and he stopped them from prostrating.
الترجمة الأردية
حضرت عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر آیتِ سجدہ پڑھی تو اترے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا، پھر دوسرے جمعہ کو پھر پڑھی تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہوئے تو فرمایا: ٹھہرو! اللہ نے ہم پر یہ فرض نہیں لکھا مگر یہ کہ ہم خود چاہیں۔ چنانچہ انہوں نے سجدہ نہیں کیا اور لوگوں کو بھی سجدہ کرنے سے روک دیا۔
