العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ، فِرَاشَهُ أَوْتَرَ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُوتِرُ آخِرَ اللَّيْلِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَأَمَّا أَنَا فَإِذَا جِئْتُ فِرَاشِي أَوْتَرْتُ .
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab said, "Hadrat Abu Bakr as-Siddiq used to pray witr when he wished to go to bed, and Umar ibn al-Khattab used to pray witr at the end of the night. As for me, I pray witr when I go to bed."
الترجمة الأردية
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر جب سونے کو آتے اپنے بستر پر وتر پڑھ لیتے اور حضرت عمر بن خطاب آخر رات میں وتر پڑھتے تھے بعد تہجد کے اور سعید بن مسیب نے کہا کہ میں جب اپنے بچھونے پر سونے کو آتا ہوں تو وتر پڑھ لیتا ہوں ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص نے پوچھا حضرت عبداللہ بن عمر سے کیا وتر واجب ہے تو کہا حضرت عبداللہ بن عمر نے وتر ادا کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں نے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ بی بی حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ فرماتی تھیں جس شخص کو خوف ہو کہ اس کی آنکھ نہ کھلے گی صبح تک تو وہ وتر پڑھ لے سونے سے پیشتر اور جو امید رکھے جاگنے کی آخر شب میں تو وہ دیر کرے وتر میں ۔
