العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ سَأَلَهُ إِبِلاً مِنَ الصَّدَقَةِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ - وَكَانَ مِمَّا يُعْرَفُ بِهِ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ أَنْ تَحْمَرَّ عَيْنَاهُ - ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُنِي مَا لاَ يَصْلُحُ لِي وَلاَ لَهُ فَإِنْ مَنَعْتُهُ كَرِهْتُ الْمَنْعَ وَإِنْ أَعْطَيْتُهُ أَعْطَيْتُهُ مَا لاَ يَصْلُحُ لِي وَلاَ لَهُ " . فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ أَسْأَلُكَ مِنْهَا شَيْئًا أَبَدًا .
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr from his father that the Beloved Messenger of Allah gave a man from the Banu Abd al-Ashal charge over some sadaqa. When he came to ask him for some camels from the sadaqa, the Beloved Messenger of Allah was so angry that the anger showed in his face. One way in which anger could be recognised in his face was that his eyes became red. Then he said, "This man has asked me for what is not good for me or him. If I refuse it, I hate to refuse. If I give it to him, I will give him what is not good for me or him." The man said, "Beloved Messenger of Allah! I will never ask you for any of it!"
الترجمة الأردية
حضرت ابو بکر بن محمد ، عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو عامل کیا بنی عبد اشہل میں سے صدقہ لینے پر جب لوٹ کر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے صدقے کا اونٹ مانگا (اپنی اجرت کے سوا) آپ غصے ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ معلوم ہوا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے غصے کی نشانی یہ تھی کہ آنکھیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سرخ ہو جاتیں پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بعض آدمی مانگتے ہیں مجھ سے جو لائق نہیں دیتا اس کو نہ مجھ کو اگر میں نہ دوں تو مجھے بھی برا معلوم ہوتا ہے ( کیونکہ) سخاوت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت خلقی تھی اور جو اسے دوں تو وہ چیز دیتا ہوں جو اس کو دینی درست نہیں وہ شخص بولا یا رسول اللہ اب میں کوئی چیز اس میں سے نہ مانگوں گا ۔
