العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ بَنِي أَنْمَارٍ . قَالَ جَابِرٌ فَبَيْنَا أَنَا نَازِلٌ تَحْتَ شَجَرَةٍ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلُمَّ إِلَى الظِّلِّ . قَالَ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُمْتُ إِلَى غِرَارَةٍ لَنَا فَالْتَمَسْتُ فِيهَا شَيْئًا فَوَجَدْتُ فِيهَا جِرْوَ قِثَّاءٍ فَكَسَرْتُهُ ثُمَّ قَرَّبْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا " . قَالَ فَقُلْتُ خَرَجْنَا بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنَ الْمَدِينَةِ . قَالَ جَابِرٌ وَعِنْدَنَا صَاحِبٌ لَنَا نُجَهِّزُهُ يَذْهَبُ يَرْعَى ظَهْرَنَا - قَالَ - فَجَهَّزْتُهُ ثُمَّ أَدْبَرَ يَذْهَبُ فِي الظَّهْرِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ لَهُ قَدْ خَلَقَا - قَالَ - فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِ فَقَالَ " أَمَا لَهُ ثَوْبَانِ غَيْرُ هَذَيْنِ " . فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُ ثَوْبَانِ فِي الْعَيْبَةِ كَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا . قَالَ " فَادْعُهُ فَمُرْهُ فَلْيَلْبَسْهُمَا " . قَالَ فَدَعَوْتُهُ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ وَلَّى يَذْهَبُ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لَهُ ضَرَبَ اللَّهُ عُنُقَهُ أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا لَهُ " . قَالَ فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ .
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Hadrat Zayd ibn Aslam that Jabir ibn Abdullah al-Ansari said, "We went out with the Beloved Messenger of Allah in the raid on the Banu Ammar tribe." Hadrat Jabir said, "I was resting under a tree when the Messenger of Allah came. I said, 'Beloved Messenger of Allah; come to the shade.' So the Beloved Messenger of Allah sat down, and I stood up and went to a sack of ours. I looked in it for something and found a small cucumber and broke it. Then I brought it to the Beloved Messenger of Allah . He said, 'From where did you get this?' I said, 'We brought it from Madina, Beloved Messenger of Allah.' " Hadrat Jabir continued, "We had a friend of ours with us whom we used to equip to go out to guard our mounts. I gave him what was necessary and then he turned about to go to the mounts and he was wearing two threadbare cloaks of his. The Beloved Messenger of Allah looked at him and said, 'Does he have two garments other than these?' I said, 'Yes, Beloved Messenger of Allah. He has two garments in the bag.' I gave them to him. He said, 'Let him go and put them on.' I let him go to put them on. As he turned to go, the Beloved Messenger of Allah exclaimed, 'May Allah strike his neck. Isn't that better for him?' He said (taking him literally), 'Beloved Messenger of Allah, in the way of Allah.' The Beloved Messenger of Allah said, 'In the way of Allah.' " Hadrat Jabir added, "The man was killed in the way of Allah."
الترجمة الأردية
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے غزوہ بن انمار میں تو ہم ایک درخت کے تلے اترے ہوئے تھے اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم دکھائی دئے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سائے میں آئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آکر اتر میں اپنی زنبیل کو دیکھنے گیا اس میں ڈھونڈنے لگا تو ایک ککڑی ملی میں اس کو توڑ کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لے گیا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا یہ کہاں سے آئی حضرت جابر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مدینہ سے ہم اس کو لے کر نکلے تھے پھر حضرت جابر کہتے ہیں ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جس کا سامان سفر ہم نے کر دیا تھا وہ ہمارے جانور چراتا تھا جب وہ پیٹھ موڑ کر جانور چرانے جانے لگا تو وہ چادریں اوڑھے ہوئے تھا جو پھٹ کر چندی چندی ہوگئی تھیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ کیا اور کپڑے اس کے پاس نہیں ہیں حضرت جابر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہیں گٹھری میں بندھے ہیں میں نے اس کو پہننے کے لئے دئیے ہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس سے کہو کہ وہ کپڑے پہن لے میں نے اس کو بلایا اس نے وہ کپڑے گٹھری سے نکال کر پہن لئے جب پھر جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کو کیا ہوگیا تھا اللہ اس کی گردن مارے اب کیا اچھا معلوم نہیں ہوتا اس کو اس شخص نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کیا اللہ کی راہ میں میری گردن ماری جائے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں اللہ کی راہ میں پھر وہ شخص شہید ہوا اللہ کی راہ میں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں عالم کو اچھے کپڑے پہنے ہوئے دیکھوں ۔
