العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ تُعَاقِلُ الْمَرْأَةُ الرَّجُلَ إِلَى ثُلُثِ الدِّيَةِ إِصْبَعُهَا كَإِصْبَعِهِ وَسِنُّهَا كَسِنِّهِ وَمُوضِحَتُهَا كَمُوضِحَتِهِ وَمُنَقِّلَتُهَا كَمُنَقَّلَتِهِ .
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab said, "The blood-money for a woman is the same as for a man up to one third of the blood-money. Her finger is like his finger, her tooth is like his tooth, her injury which lays bare the bone is like his, and her head wound which splinters the bone is like his."
الترجمة الأردية
کہا مالک نے ہمارے نزدیک خطا میں یہ حکم اتفاقی ہے کہ زخم کی دیت کا حکم نہ ہوگا جب تک مجروح اچھا نہ ہوجائے ۔ اگر ہاتھ یا پاؤں کی ہڈی ٹوٹ جائے پھر جڑ کر اچھی ہوجائے پہلے کے موافق تو اس میں دیت نہیں ہے اور اگر کچھ نقص رہ جائے تو اس میں دیت ہے نقصان کے موافق ۔ اگر وہ ہڈی ایسی ہو جس میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے دیت ثابت ہے تو اسی قدر دیت لازم ہوگی ورنہ سوچ سمجھ کر جس قدر مناسب ہو دیت دلائیں گے۔ کہا مالک نے اگر بدن میں خطاءً زخم لگ کر اچھا ہوجائے نشان نہ رہے تو دیت نہیں ہے اگر دھبہ یا عیب رہ جائے تو اس کے موافق دیت دینی ہوگی مگر جائفہ میں تہائی دیت لازم ہوگی اور منقلہ جسد میں دیت نہیں ہے جیسے موضحہ جسد میں ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر جراح نے ختنہ کرتے وقت خطاء سے حشفے کو کاٹ ڈالا تو اس پر دیت ہے اور یہ دیت عاقلے پر ہوگی اسی طرح طبیب سے جو غلطی ہوجائے بھول چوک کر اس میں دیت ہے (اگر قصداًہو تو قصاص ہے)۔
