العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ وَإِنْ طَلَّقَهَا أَلْفَ مَرَّةٍ فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَى امْرَأَتِهِ فَطَلَّقَهَا حَتَّى إِذَا شَارَفَتِ انْقِضَاءَ عِدَّتِهَا رَاجَعَهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا ثُمَّ قَالَ لاَ وَاللَّهِ لاَ آوِيكِ إِلَىَّ وَلاَ تَحِلِّينَ أَبَدًا . فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلاَقَ جَدِيدًا مِنْ يَوْمِئِذٍ مَنْ كَانَ طَلَّقَ مِنْهُمْ أَوْ لَمْ يُطَلِّقْ .
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said, "It used to be that a man would divorce his wife and then return to her before her idda was over, and that was alright, even if he divorced her a thousand times. The man went to his wife and then divorced her and when the end of her idda was in sight, he took her back and then divorced her and said, 'No! By Allah, I will not go to you and you will never be able to marry again.' Allah, the Blessed, the Exalted, sent down, 'Divorce is twice, then honourable retention or setting free kindly.' People then turned towards divorce in a new light from that day whether or not they were divorced or not divorced."
الترجمة الأردية
عروہ بن حضرت زبیر کہتے تھے پہلے یہ دستور تھا کہ مرد اپنی عورت کو طلاق دیتا جب عدت گزرنے لگتی تو رجعت کر لینا ایسا ہی ہمیشہ کیا کرتا اگرچہ ہزار مرتبہ طلاق دے ایک شخص نے اپنی عورت کے ساتھ ایسا ہی کیا اس کو طلاق دی جب عدت گزرنے لگی تو رجعت کرلی پھر طلاق دیدی اور کہا قسم اللہ کی نہ میں تجھے اپنے ساتھ ملاؤں گا اور نہ کسی اور سے ملنے دوں گا جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری طلاق دو دو بار یا پھر رکھ لو دستور کے موافق یا رخصت کر دو دستور کے موافق اس دن سے لوگوں نے نئے سرے سے طلاق شروع کی جہنوں نے طلاق دی تھی اور جہنوں نے نہ دی تھی سب نے ۔
