العربية (الأصل)
997 صحيح حديث ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: لَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا(قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ رَاوِي هذَا الْحَدِيثِ)قُلْتُ: مَا قَالَ رسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ قُلْتُ: نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ قَالَ: لاَ تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَاَ أَوْ أَمْسِكُوهَا قَالَ رَافِعٌ، قُلْتُ: سَمْعًا وَطَاعَةً
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If you sell a camel for two camels, that is usury."
الترجمة الأردية
سیدنا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا تھا جس میں ہمارا (بظاہر ذاتی) فائدہ تھا (حدیث کے راوی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا) اس پر میں نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے جو کچھ بھی فرمایا وہ حق ہے، سیدنا ظہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بلایا اور دریافت فرمایا:”تم لوگ اپنے کھیتوں کا معاملہ کس طرح کرتے ہو؟“میں نے کہا کہ ہم اپنے کھیتوں کو (بونے کے لیے) نہر کے قریب کی زمین کی شرط پر دے دیتے ہیں، اسی طرح کھجور اور جو کے چند وسق پر، یہ سن کر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ایسا نہ کرو، یا خود اس میں کھیتی کیا کرو یا دوسروں سے کراؤ، ورنہ اسے یوں خالی ہی چھوڑ دو۔“سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا: (آپ کا یہ فرمان) میں نے سنا اور مان لیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 997]
