العربية (الأصل)
961 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ: إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ؛ فَقَالَ: أَلَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ فِيهَا لَحْمٌ قَالُوا: بَلَى، وَلكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لاَ تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ؛ قَالَ: عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
الترجمة الإنجليزية
Aisha (may Allah be pleased with her), the wife of the Prophet (peace be upon him), said: "Three legal rulings were established through Barirah. First, she was freed and then given the choice regarding her husband. And the Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Wala' belongs to the one who sets the slave free.' And the Messenger of Allah (peace be upon him) entered while a pot was boiling with meat. Bread and household condiments were placed before him. He said: 'Did I not see a pot with meat in it?' They said: 'Yes, but that meat was given to Barirah as charity, and you do not eat charity.' He said: 'For her it is charity, and for us it is a gift from her.'"
الترجمة الأردية
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے دین کے تین مسئلے معلوم ہو گئے، اول یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا اور پھر ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا (کہ چاہیں ان کے نکاح میں رہیں ورنہ الگ ہو جائیں) اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے (انہیں کے بارے میں) فرمایا:”ولاء اسی سے قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے۔“اور ایک مرتبہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمگھر میں تشریف لائے تو ایک ہانڈی میں گوشت پکایا جا رہا تھا، پھر کھانے کے لیے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں نے تو ہانڈی میں گوشت پکتا دیکھا ہے؟“عرض کیا گیا کہ جی ہاں، لیکن وہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں ملا ہے اور آپ صدقہ نہیں کھاتے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے بریرہ کی طرف سے تحفہ ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب العتق/حدیث: 961]
