العربية (الأصل)
955 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ التَّلاَعُنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلاً ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، فَقَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهذَا إِلاَّ لِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا، قَلِيلَ اللَّحْمِ، سَبْطَ الشَّعَرِ؛ وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ، أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ، خَدْلاً، آدَمَ، كَثِيرَ اللَّحْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللهُمَّ بَيِّنْ فَجَاءَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ، فَلاَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْمَجْلِسِ: هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هذِهِ فَقَالَ: لاَ، تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الإِسْلاَمِ السُّوءَ
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated the full account of the li'an procedure. The husband was thin, with yellowish skin and straight hair. The man he accused of being with his wife was well-built, dark-complexioned, and heavyset. The Prophet prayed: "O Allah, make it clear." The woman gave birth to a child resembling the man whom the husband had accused. The Prophet performed li'an between them. Someone in the assembly asked Ibn Abbas: "Was she the woman about whom the Prophet said: 'If I were to stone anyone without clear evidence, I would stone this woman?'" Ibn Abbas said: "No, that was a different woman who openly committed immorality in Islam."
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی مجلس میں لعان کا ذکر ہوا اور سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں کوئی بات کہی (کہ میں اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھ لوں تو وہیں قتل کر دوں) اور چلے گئے، پھر ان کی قوم کے ایک صحابی (عویمر رضی اللہ عنہ) ان کے پاس آئے یہ شکایت لے کر کہ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پایا ہے، عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے آج یہ ابتلا میری اسی بات کی وجہ سے ہوا ہے جو میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے کہی تھی، پھر وہ انہیں لے کر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو وہ واقعہ بتایا جس میں اس صحابی نے اپنی بیوی کو پایا تھا، یہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت والے (پتلے دبلے) اور سیدھے بال والے تھے اور جس کے متعلق انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ (تنہائی میں) پایا وہ گٹھے ہوئے جسم کا گندمی اور بھرے گوشت والا تھا، پھر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے دعا فرمائی:«اللَّهُمَّ بَيِّنْ»”اے اللہ! اس معاملہ کو صاف کر دے“، چنانچہ اس عورت نے بچہ اسی مرد کی شکل کا جنا جس کے متعلق شوہر نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ پایا تھا، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے میاں بیوی کے درمیان لعان کرایا، ایک شاگرد نے مجلس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا یہی وہ عورت ہے جس کے متعلق نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا تھا کہ”اگر میں کسی کو بلا شہادت کے سنگسار کر سکتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا“؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں، (یہ جملہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے) اس عورت کے متعلق فرمایا تھا جس کی بدکاری اسلام کے زمانہ میں کھل گئی تھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللعان/حدیث: 955]
