العربية (الأصل)
918 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَقَالَ: أَتَحْتَجِبِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّكِ فَقُلْتُ: وَكَيْفَ ذلِكَ قَالَ: أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي بِلَبَنِ أَخِي فَقَالَتْ: سَأَلْتُ عَنْ ذلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَدَقَ أَفْلَحُ، ائْذَنِي لَهُ
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (peace be upon him) was offered the daughter of Hamzah in marriage. He said: "She is not lawful for me; she is the daughter of my foster-brother. What is unlawful by lineage is unlawful by breastfeeding."
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ (پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد) افلح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے (گھر میں آنے کی) اجازت چاہی، تو میں نے ان کو اجازت نہیں دی، وہ بولے کہ آپ مجھ سے پردہ کرتی ہیں حالانکہ میں آپ کا (دودھ کا) چچا ہوں، میں نے کہا: یہ کیسے؟ تو انہوں نے بتایا کہ میرے بھائی (وائل) کی عورت نے آپ کو میرے بھائی ہی کا دودھ پلایا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے اس کے متعلق رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھا، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”افلح نے سچ کہا ہے، انہیں (اندر آنے کی) اجازت دے دیا کرو (ان سے پردہ نہیں ہے)۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الرضاع/حدیث: 918]
