العربية (الأصل)
865 صحيح حديث أَنَسٍ عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: قُلْتُ َلأنَسٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ: نَعَمْ مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، لاَ يُقْطَعُ شَجَرُهَا، مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِين قَالَ عَاصِمٌ: فَأَخْبَرَنِي مُوسى بْنُ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا
الترجمة الإنجليزية
Narrated Anas (may Allah be pleased with him): Asim said: "I asked Anas: 'Did the Messenger of Allah (peace be upon him) declare Madinah sacred?' He said: 'Yes, from such-and-such place to such-and-such place. Its trees are not to be cut. Whoever introduces an innovation in it, upon him is the curse of Allah, the angels, and all mankind.'" Asim said: "Musa ibn Anas informed me that he (Anas) said: 'or whoever shelters an innovator.'"
الترجمة الأردية
عاصم رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے مدینہ منورہ کو حرمت والا شہر قرار دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں!”فلاں جگہ (عیر) سے فلاں جگہ (ثور) تک اس علاقہ کا درخت نہیں کاٹا جائے گا، جس نے اس حدود میں کوئی نئی بات پیدا کی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔“عاصم رحمہ اللہ نے کہا کہ پھر مجھے موسیٰ بن انس رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا تھا:”یا کسی نے دین میں بدعت پیدا کرنے والے کو پناہ دی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 865]
