العربية (الأصل)
84 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ يَمينٍ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِها مَالَ امْرِىءٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبانُ فَأَنْزَلَ اللهُ تَصْديقَ ذَلِكَ(إِنَّ الَّذينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمانِهِمْ ثَمَنًا قَليلاً أُولئِكَ لاَ خَلاقَ لَهُمْ في الآخِرَةِ)إِلى آخر الآية؛ قَالَ فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَقَالَ: ما يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمنِ قُلْنا: كَذا وَكَذا، قَالَ فيَّ أُنْزِلَتْ: كانَتْ لي بِئْرٌ في أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لي، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمينُهُ؛ فَقُلْتُ: إِذًا يَحْلِفَ يا رَسُول اللهِ؛ فَقالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلى يَمينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِها مَالَ امْرِىءٍ مُسْلِمٍ، وَهُوَ فِيها فاجِرٌ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبانُ
الترجمة الإنجليزية
Anas (may Allah be pleased with him) said: We were given a time limit for trimming the mustache, clipping the nails, plucking the armpit hair, and shaving the pubic hair — we should not leave them for more than forty days.
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس شخص نے اس لیے قسم کھائی کہ کسی مسلمان کا مال (جھوٹ بول کر وہ) مار لے تو جب وہ اللہ سے ملے گا اللہ تعالیٰ اس پر نہایت ہی غصہ ہوگا“، پھر اللہ تعالیٰ نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے اس فرمان کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی:﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾[سورة آل عمران: 77]”بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہیں“۔ راوی نے بیان کیا کہ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور پوچھا:”ابو عبدالرحمن (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے آپ لوگوں سے کوئی حدیث بیان کی ہے؟“ہم نے بتایا کہ ہاں اس اس طرح سے حدیث بیان کی ہے، اشعث رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی:”میرے ایک چچا کے بیٹے کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا (ہم دونوں کا اس کے بارے میں جھگڑا ہوا اور مقدمہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں پیش ہوا تو) آپصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھ سے فرمایا:”تو گواہ پیش کر یا پھر اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا“، میں نے کہا:”پھر تو یا رسول اللہ وہ (جھوٹی) قسم کھا لے گا“، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال لے لے اور اس کی نیت بری ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہوگا“۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 84]
