العربية (الأصل)
639 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ رضي الله عنه إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فَقَسَمَهَا بَيْنَ الأَرْبَعَةِ، الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ الْمُجَاشِعِيِّ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَزَيْدٍ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلاَثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلاَبٍ؛ فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالأَنْصَارُ قَالُوا: يُعْطِي صَنَادِيد أَهْل نَجْدٍ وَيَدَعُنَا قَالَ: إِنَّمَا أَتأَلَّفُهُمْ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاتِىءُ الْجَبِينِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقٌ، فَقَالَ: اتَّقِ اللهَ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللهَ إِذَا عَصَيْتُ أَيَأْمنُنِي اللهُ عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونَنِي فَسأَلَهُ رَجُلٌ قَتْلَهُ، أَحْسِبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ: إَنَّ مِنْ ضِئْضِئِي هذَا أَوْ فِي عَقِبَ هذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ، وَيَدعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Sa'id al-Khudri: Ali sent a gold nugget still in its ore from Yemen to the Prophet (peace be upon him). The Prophet divided it among four people. A man said: "We have more right to this than them." The Prophet (peace be upon him) said: "Will you not trust me, when I am trusted by the One above the heavens? News comes to me from heaven morning and evening." A man with sunken eyes, high cheekbones, a protruding forehead, a thick beard, and a shaved head stood up and said: "O Messenger of Allah, fear Allah!" The Prophet said: "Woe to you! Am I not the most worthy of the people of the earth to fear Allah?" Khalid ibn al-Walid said: "O Messenger of Allah, shall I not strike his neck?" He said: "No, perhaps he prays." Khalid said: "How many who pray say with their tongues what is not in their hearts?" The Messenger of Allah said: "I was not commanded to probe people's hearts or to cut open their chests."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (یمن سے) نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں کچھ سونا بھیجا تو آپ نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا: اقرع بن حابس حنظلی ثم المجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید طائی (بنو نبہان والے) اور علقمہ بن علاثہ عامری (بنو کلاب والے)۔ اس پر قریش اور انصار کے لوگوں کو غصہ آیا اور کہنے لگے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے نجد کے بڑوں کو تو دیا لیکن ہمیں نظر انداز کر دیا ہے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں صرف ان کے دل ملانے کے لیے انہیں دیتا ہوں“(کیوں کہ ابھی حال ہی میں یہ لوگ مسلمان ہوئے ہیں)۔ پھر ایک شخص سامنے آیا اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، کلے پھلے ہوئے تھے، پیشانی بھی اٹھی ہوئی تھی، داڑھی بہت گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا، اس نے کہا: اے محمد! اللہ سے ڈرو۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اس کی فرمانبرداری کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے روئے زمین پر دیانتدار بنا کر بھیجا ہے، کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟“اس شخص کی اس گستاخی پر ایک صحابی نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے کہ یہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے لیکن رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں اس سے روک دیا، پھر وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس شخص کی نسل سے یا (آپ نے فرمایا کہ) اس شخص کے بعد اس کی قوم سے ایسے لوگ جھوٹے مسلمان پیدا ہوں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا (عذابِ الہی سے) قتل ہوا تھا کہ ایک بھی باقی نہ بچا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 639]
