العربية (الأصل)
547 صحيح حديث خَبَّاتٍ رضي الله عنه، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَلْتَمِسُ وَجْهَ اللهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللهِ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُميْرٍ؛ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ، فَهُوَ يَهْدِبُهَا قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ مَا نُكَفِّنُهُ إِلاَّ بُرْدَةً إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ وَأَنْ نَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الإِذْخِرِ
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said to Bilal: "Tell me of the best deed you have done in Islam, for I heard the sound of your footsteps ahead of me in Paradise." Bilal said: "The most hopeful deed I have done is that I never performed ablution at any hour of the day or night except that I prayed with that ablution whatever was prescribed for me to pray."
الترجمة الأردية
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ صرف اللہ کے لیے ہجرت کی، اب ہمیں اللہ تعالیٰ سے اجر ملنا ہی تھا، ہمارے بعض ساتھی تو انتقال کر گئے اور (اس دنیا میں) انہوں نے اپنے کیے کا کوئی پھل نہیں دیکھا، سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی ان ہی لوگوں میں سے تھے اور ہمارے بعض ساتھیوں کا میوہ پک گیا اور وہ اسے چن چن کر کھاتے ہیں، (سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ) احد کی لڑائی میں شہید ہوئے، ہم کو ان کے کفن میں ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز نہ ملی اور وہ بھی ایسی کہ اگر اس سے سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا، آخر یہ دیکھ کر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا کہ”سر کو چھپا دیں اور پاؤں پر سبز گھاس«اِذْخِر»(نامی) ڈال دیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 547]
